زمین پر سب سے پہلا قتل
آج دنیا بھر میں قتل و غارت گری بہت زیادہ عام ہے۔ معمولی معمولی سی باتوں پر انسانوں کو ناحق قتل کر دیا جاتا ہے۔ وہ ماں جو اولاد کی ذرا سی تکلیف برداشت نہیں کر سکتی اُس کی گود اُجاڑ دی جاتی ہے۔ وہ باپ جو پُوری زندگی اپنی اُولاد کے لیے محنت کرتا ہے اپنا خون پسینہ بہاتا ہے اور اُمید رکھتا ہے کہ یہ اُولاد بڑھاپے میں اُس کا سہارا بنے گی اُس باپ سے اُس کا بڑھاپے کا سہارا چھین لیا جاتا ہے۔ وہ بہن جو اپنے بھائ کی لاڈلی ہوتی ہے اور اُس کا بھائ اُس کے ہر نخرے اُٹھاتا ہے اُس بہن سے اُس کے بھائ کو ہمیشہ کے لیے دور بھیج دیا جاتا ہے۔ جو بچے ابھی اپنی شعور کی منزل تک نہیں پہنچے ہوتے [یعنی ناسمجھ ہوتے ہیں] اُن بچوں کو یتیم کر دیا جاتا ہے۔ کیا یہی انسانیت ہے کہ کسی ناحق شخص کو قتل کر کے اُس کے گھر والوں کی تمام خوشیاں چھین لی جائیں۔کیا انسان کے خون کی کوئ اہمیت نہیں۔؟
:تعلیماتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
آج کے معاشرے میں انسانیت مٹتی جارہی ہے۔ وہ لوگ جو کسی مسلمان کو ناحق قتل کر دیتے ہیں وہ یا تو دین کی تعلیمات کو بُھلا بیٹھے ہیں یا اُنھیں دین کی ذرا بھی سمجھ بُوجھ نہیں ہمارے پیارے آقا رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگی مہم میں روانہ ہوتے تو تاکید کرتے ہوئے یہ ارشاد فرماتے " کہ کوئ فصل بھی نہ اُجاڑنا " ایسے جانور جن سے انسانی جان کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو موذی جانور ہیں جیسے سانپ، بچھو وغیرہ جن کو مارنا اس لیے ضروری ہے کہ اُن کے کاٹنے سے نقصان نہ ہو اُن کے لیے بھی یہ تاکید فرمائ کہ کوشش کرو کہ اِن کو ایک ضرب سے قتل کرو وہ تڑپ تڑپ کر نہ مرے اور فرمایا کہ اُس کے اعضاء کے ٹکڑے نہ کرو تو یہ کونسا دین ہے، کونسا اسلام ہے، کونسی شریعت ہے کہ جس میں معصوم گلے کاٹ دئیے جاتے ہیں۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ دین تو نہیں ہے جس دین کی تعلیمات ہمیں ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔ کیونکہ ہمیں جس دین کی تعلیمات دی گئ ہے وہ دین تو دینِ رحمت ہے۔
:ارشادِ باری تعالٰی
کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا " اور جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اِس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اِس میں رہے اور اللہ نے اِس پر غضب کیا اور اِس پر لعنت کی اور اِس کے لیے تیار رکھا بڑا عذاب" النساء :۹۳
دوسری آیت میں ارشاد فرمایا " جس شخص نے کسی دوسرے کو قصاص کے بغیر یا زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ کے علاوہ [کسی وجہ سے قتل کیا] تو گویا اُس نے ساری انسانیت کا قتل کیا " المائدہ
آج کل بہت سے لوگ ایسے لوگوں کی ہمایت کرتے نظر آتے ہیں جنہوں نے ہمارے پیارے آقا دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اور وہ لوگ صرف ذرا سے دنیاوی مفاد کے چکر میں اپنی آخرت خراب کر رہے ہوتے ہیں اور یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ معاذاللہ ایک گستاخِ رسول کا قتل بھی تو ناحق قتل میں شامل ہے۔ دراصل ایسے لوگ جاہل اور دین سے لا علمی کا شکار ہیں۔
:فرمانِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کسی نبی کو گالی دے اُسے قتل کردو اور جو میرے صحابہ کو گالی دے اُسے کوڑے مارو 'کتاب الشفاء جلد دوم صفحہ ۱۲۲ فتاوٰی خیریہ جلد اول صفحہ نمبر ۳'
گستاخِ رسول کی سزا تمام صحابہ کرام کے نزدیک وہی تھی جو پیارے آقا نے فرمائ۔ اور کئ صحابہ کرام نے گستاخوں کو واصلِ جہنم کیا۔ کیونکہ جو گستاخِ رسول ہوتا ہے وہ زمین میں فتنہ و فساد پھیلاتا ہے اور اُوپر دوسری آیت کا جو ترجمہ بیان کیا گیا ہے اُس میں ناحق قتل وہ ہے جو قصاص کے بغیر یا زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ کے علاوہ کیا گیا ہو۔ کیونکہ گستاخِ رسول زمین میں فتنہ و فساد پھیلاتا ہے لہٰذا اُس کی سزا قرآن اور سنت کے مطابق موت ہے اور اُس کا قتل ناحق قتل نہیں۔
:حدیث شریف
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " سب گناہوں سے بڑا گناہ کسی کو ناحق قتل کرنا ہے۔ جس شخص نے کسی مومن کو قتل کیا اور اُس کے قتل پر خوشی کا اظہار کیا اللہ تعالٰی اُس کے نہ فرض قبول فرمائے گا نہ نفل " ابوداؤد
:سب سے پہلا قتل
کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے پہلا قتل کس کا اور کیوں ہوا تھا؟ قاتل کون تھا؟ اور مقتول کون تھا؟ آئیے ہم اِس واقعے کو ملاحظہ کرتے ہیں اِس سے آپ لوگوں کی معلومات میں اضافہ ہوگا۔
اِس دنیا میں سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے قدم رکھا اور ہم سب آدم علیہ السلام کی ہی اولاد ہیں۔ اُس وقت جب دنیا کا پہلا قتل ہوا وہ آدم علیہ السلام کے بیٹے ہابیل کا ہوا۔ آدم علیہ السلام کی اولاد میں دو بیٹے ہابیل اور قابیل بھی تھے۔ قابیل بڑا تھا اور ہابیل چھوٹا۔ قابیل کھیتی باڑی کرتا تھا اور ہابیل بکریاں چراتا تھا۔ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی کا نام اقلیما تھا۔ یہ بہت حسین و جمیل تھی۔ اور ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی کا نام لیودا تھا اور یہ خوبصورتی میں اقلیما سے کچھ کم تھی۔ آدم علیہ السلام کی شریعت کے مطابق اقلیما قابیل کی بہن تھی اور لیودا ہابیل کی بہن تھی۔ آپ کی اولاد کا نکاح کا دستور یہ تھا کہ ایک حمل میں پیدا ہونے والے لڑکا اور لڑکی کا دوسرے حمل میں پیدا ہونے والے لڑکا اور لڑکی سے نکاح کیا جاتا تھا۔ یہ دستور اِس لیے تھا کہ اُس وقت انسانیت کو فروغ دینا تھا۔ لہٰذا قابیل کا نکاح ہابیل کی بہن لیودا سے ہونا تھا اور ہابیل کا نکاح اقلیما سے ہونا تھا۔ لیکن قابیل نے کہا کہ وہ نکاح اقلیما سے ہی کرے گا۔ آدم علیہ السلام نے اُسے سمجھایا مگر وہ ضد اور ہٹ دھرمی پر اُتر آیا۔
تب آدم علیہ السلام نے ہابیل اور قابیل سے کہا کہ تم دونوں اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں قربانی پیش کرو جو اقلیما کا حقیقی حق دار ہوگا اللہ تعالٰی اُس کی قربانی کو قبول فرمالے گا۔اُس زمانے میں قربانی کی مقبولیت کی یہ نشانی ہوتی تھی کہ آسمان سے ایک آگ اُتر کر اس کو کھا لیا کرتی تھی اور جو قبول نہیں ہوتا تھا آگ اُس کو نہیں کھاتی تھی۔ قابیل چونکہ کھیتی باڑی کرتا تھا لہٰذا اُس نے ایک گیہوں کی بالیوں کا گٹھر قربانی کے لیے پیش کیا۔ اور ہابیل چونکہ مویشی پالتا تھا لہٰذا اُس نے ایک بکری کی قربانی پیش کی۔
آسمانی آگ نے ہابیل کی قربانی کو کھا لیا اور قابیل کے گیہوں کے گٹھر کو چھوڑ دیا۔ قابیل کے دل میں بغض و حسد پیدا ہو گئ اور اس نے ہابیل کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔ ہابیل نے کہا بھائ جان اب تو یہ معاملہ طے ہوگیا ہے اور اللہ کی طرف سے بھی فیصلہ آگیا ہے اور تم اللہ سے ڈرو۔ اور اگر تم مجھے قتل کروگے تو میں تم پر اپنا ہاتھ نہیں اُٹھاؤں گا۔ کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔اِس واقعہ کو قرآن کریم نے یوں ارشاد فرمایا:۔
اور انہیں پڑھ کر سُنا آدم کے بیٹوں کی سچی خبر جب دونوں نے ایک ایک نیاز پیش کی تو ایک قبول ہوئ بولا قسم ہے میں تجھے قتل کردوں گا ہابیل نے کہا کہ اللہ اُسی سے قبول کرتا ہے جسے ڈر ہے بے شک اگر تو اپنا ہاتھ مجھ پر بڑھائے گا کہ مجھے قتل کرے تو میں اپنا ہاتھ بڑھا کر تجھے قتل کرنے والا نہیں میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو مالک ہے سارے جہاں کا میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ دونوں تیرے ہی پلہ پڑیں تو دوزخی ہو جائے اور بے انصافوں کی یہی سزا ہے۔پ۶-سورہ مائدہ:۲۷-۲۹
قابیل تو حسد کی آگ میں جل رہا تھا بھلا اسے یہ نصیحت کب اثر کرتی۔ اُس وقت تو قابیل وہاں سے چلا گیا لیکن وہ ہابیل کو مارنے کی تدبیر کرنے لگا۔ شیطان لعین تو ابتداء سے ہی انسان کا دشمن ہے اُس نے قابیل کو قتل کرنے کی راہ یہ دکھائ کہ اُس نے ایک پرندہ کو پکڑا اور اُس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر دوسرے پتھر سے کچل دیا۔
قابیل کو معلوم ہو گیا کہ قتل کس طرح کرنا ہے۔ ہابیل چونکہ بکریاں چراتا تھا ایک دن وہ درخت کے سائے تلے آرام کر رہا تھا تو قابیل نے ایک بڑا پتھر اُٹھا کر ہابیل کے سر پر مار کر اُس کو قتل کر ڈالا اُس وقت ہابیل کی عمر بیس سال تھی۔ جب قابیل نے ہابیل کو قتل کر ڈالا تو اُس کی عقل زائل ہوگئی سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوگئ
قرآن نے اِس واقعے کو یوں بیان فرمایا:" تو اِس کے نفس نے اسے بھائ کے قتل کا چاؤ دلایا تو اُسے قتل کردیا تو ہوگیا نقصان اٹھانے والوں میں۔ پ۶-سورہ مائدہ: ۳۰
اب بڑا پریشان ہوا کہ اِس کی لاش کا کیا کرے۔ اِس طرح چھوڑنے میں یہ خطرہ تھا کہ درندے اس کی لاش کو کھا جائیں گے تو وہ اپنے بھائ کی لاش کو بوری میں ڈال کر پھرتا رہا یہاں تک کے لاش بدبودار ہوگئ۔ لاش کو چھپانے کا کوئ طریقہ بھی اسے نہیں آرہا تھا بڑا پریشان ہوا کہ کروں تو کیا کروں؟
تب اللہ تعالٰی نے دو کوّے بھیجے قابیل ان کوؤں کو دیکھ رہا تھا ان کوؤں میں سے ایک کوّے نے دوسرے کوّے کو مار ڈالا اور پھر زمین کھود کر اِس میں اُس کو ڈال دیا۔
اِس سے قابیل کو معلوم چل گیا کہ اُسے بھی یہی کرنا چاہئیے اور ندامت محسوس کرتے ہوئے کہنے لگا: افسوس کہ میں تو اِس کوّے جیسا بھی نہ ہو سکا۔ اِس طرح اس نے اپنے بھائ کو زمین میں دفن کیا۔
قرآن نے اس واقعہ کو یوں بیان فرمایا: " تو اللہ نے ایک کوّا بھیجا زمین کریدنے لگا کہ اسے دکھائے کیونکر اپنے بھائ کی لاش چھپائے بولا ہائے خرابی میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ میں اپنے بھائ کی لاش کو چھپاتا تو پچھتاتا رہ گیا" پ۶-سورہ مائدہ: ۳۱
جب قابیل نے ہابیل کو قتل کر ڈالا تو اس سے پہلے اس کا رنگ سفید تھا لیکن قتل کے بعد اس پر پھٹکار پڑی اور اس کا سارا جسم کالا ہوگیا۔ حضرت آدم علیہ السلام مکہ گئے ہوئے تھے جب واپس آئے تو آپ نے پوچھا: قابیل تمہارا بھائ ہابیل کہاں ہے؟
اُس نے کہا میں اس کا کوئ ذمہ دار تو نہیں تھا۔
حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا:
تو نے اُسے قتل کر دیا ہے اسی لیے تیرا جسم سیاہ ہوگیا ہے۔
دنیا میں پہلا قتل قابیل نے کیا تھا اب جو قتل بھی ہوتا ہے اس کا گناہ قابیل کو بھی ملتا ہے۔ لہٰذا نہ بُرا کام کرنا چاہئیے اور نہ دوسروں کو کرنے دیں۔
کیونکہ اگر آپ نے کسی برے کام کی بنیاد رکھی تو جب تک وہ برا کام ہوتا رہے گا آپ کا نامہ اعمال بھی اُس گناہ کی وجہ سے سیاہ ہوتا رہے گا۔
یقیناً اس واقعے کو ملاحظہ کر کے آپ کی معلومات میں اضافہ ہوگا۔
از تحریر: محمد شعیب احمد
Good information
ReplyDeleteواقعی معلوماتی بلاگ ہے۔
ReplyDeleteNice information
ReplyDelete