کیا بے پردگی ہماری ضرورت ہے؟

موجودہ دور میں لوگوں کے خیالات



بعض لوگوں کا خیال ہے کہ موجودہ دور میں بے پردگی ہماری ضرورت بن چکی ہے۔ مخلوط محفل میں لڑکیوں کو آرائش و زینت کے ساتھ لے کر جائیں گے تو اِن کے لیے رشتے آئیں گے ویسے بھی چادر یا دوپٹہ نہ لینا کوئ کُفر و اسلام کا مسئلہ تو نہیں ہے۔ تو اِن کو سب سے پہلے تو یہ بات جان لینی چاہئیے کہ شریعتِ مطہرہ کے کسی بھی حکم کی توہین یا اسے ہلکا جاننے کا کیا حکم ہے۔اور یہ خیال کہ بیٹیوں کو زیب و زینت کے ساتھ بے پردہ رکھنے سے رشتے آتے ہیں تو یہ شیطان کا دھوکہ ہے اگر محض اِس قسم کی نفسانی خواہشات کے ذریعے حرام کو حلال کیا جانے لگا تو پھر شرعی احکام بدلنے کا کبھی  نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہو  جائے گا۔ جس شادی کی بنیاد ہی حرام کام پر رکھی جارہی ہو تو اُس کے بارے میں تو یہی  کہا جا سکتا ہے کہ: "جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہی ہوگا"۔

صدر الشریعہ لکھتے ہیں۔" کسی شخص کو شریعت کا حکم بتایا کہ اِس معاملے میں یہ حکم ہے اُس نے کہا ہم شریعت پر عمل نہیں کریں گے ہم تو رسم کی پابندی کریں گے۔ ایسا کہنا بعض مشائخ کے نزدیک کفر ہے۔ "بہارِ شریعت جلد اول حصہ نہم ص ۱۳۲ بحوالہ فتاوٰی عالمگیری"۔

:ارشادِ باری تعالٰی

اللہ تعالٰی نے قرآن میں شرم و حیا کے بارے میں ارشاد فرمایا۔ "تم فرماؤ میرے رب نے تو بے حیائیاں حرام فرماِئیں جو اِن میں کھلی ہیں اور جو چھپی"۔ 'الاعراف ۳۳،کنزالایمان'۔

:فرمانِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم

پیارے آقا کا فرمانِ عالیشان ہے " غیرت ایمان کی علامت ہے اور بے غیرتی نفاق کی نشانی ہے" 'بہیقی'۔

ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا "ایمان اور حیا دونوں ساتھی ہیں جب ایک یعنی حیا چلی گئ تو دوسرا یعنی ایمان بھی چلا جاتا ہے 'مشکوٰۃ'۔
ان حدیثِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غیرت ایمان کی علامت ہے یعنی ایمان والے غیرت مند ہوتے ہیں اور غیرت کا تقاضہ یہ ہے کہ تمام بے حیائیوں سے نفرت کی جائے۔

:دورِ حاضر

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کہ معاشرے میں ہماری خواتین پردے کی اہمیت کو بھول چکی ہیں۔ معاشرے کا بڑا حصہ حیا سے محروم ہے۔ فلموں ڈراموں کی وجہ سے ہماری خواتین کے اندر بے پردگی عام ہو چکی ہے۔ آج کل نوجوان لڑکیاں اور خواتین اِس قدر باریک کپڑے  پہنتی ہیں کہ اُن کا بدن چمکتا ہے۔ اور وہ ایسے لباس کو فیشن اور اچھا سمجھ کر زیب تن کر رہی ہوتی ہیں جو کہ حقیقت میں بے حیائ کی طرف راغب کرنے کا ایک اور ذریعہ ہے۔
ایسے ملبوسات پہن کر خواتین کا غیروں میں جانا،اجنبیوں میں پھرنا،غیر مردوں کے ساتھ بازاروں اور عام گذرگاہوں میں خرید و فروخت کرنا عام ہو چکا ہے۔
شریعتِ مطہرہ میں تو عورت کو یہ تاکید کی گئ ہے کہ عورت ہلکی خوشبو استعمال کرے کہ تیز خوشبو سے غیر مرد اُسکی جانب متوجہ ہونگے مگر آج کی خواتین بیباکی و خودنمائ کی ایسی نمائشیں کرتی نظر آتی ہیں کہ سر کے بال اور کلائیاں اور کچھ حصہ گلے یا پنڈلی کا کھلا رکھنا جیسے گویا اُن کے لیے کوئ عیب ہی نہیں۔

خیالی روشنی، روشن خیالی آج کل کی ہے
دلوں سے سلب اِس نے کر لیا ہے نورِ ایمانی

:حدیثِ مبارکہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،"دوزخیوں میں دو گروہ ہیں۔ ان میں ایک اِن عورتوں کا ہے جو بظاہر تو کپڑے پہنتی ہیں مگر حقیقت میں ننگی ہیں یعنی اس قدر باریک اور ایسی لاپرواہی سے کپڑے پہنتی ہیں کہ انکا بدن چمکتا ہے اور کہیں سے کھلا ہوتا ہے کہیں سے چھپا ہوا۔ وہ خود بھی دوسرے مردوں کی طرف رغبت کرتی ہیں 'کہ بناؤ سنگھار کر کے دوسروں کا دل لبھاتی ہیں یا سر سے دوپٹہ اُتار ڈالتی ہیں تاکہ دوسرے اِنکا چہرہ دیکھیں' اور مٹک مٹک کر چلتی ہیں 'تاکہ دوسروں کو فریفتہ اور اپنی طرف مائل کریں' یہ عورتیں ہرگز جنت میں داخل نہ ہونگی اور جنت کی خوشبو بھی نہ پائیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو بہت دور سے معلوم ہو جاتی ہے اور دور دور تک پھیلتی ہے" 'مشکوٰۃ'۔

ہمارے معاشرے میں اکثریت ایسے لوگوں کی بھی جو اپنی بیوی کے کہنے پر خلافِ شرع کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اپنی بیوی اور بیٹیوں کی بے پردگی پر راضی ہو کر غیرتِ ایمانی سے  محروم ہو جاتے ہیں حالانکہ اللہ تعالٰی نے مرد کو عورتوں پر حاکم بنا کر فضیلت عطا فرمائ ہے۔ باریک لباس میں جسم جھلکتا ہے یہ مردوں کا کام ہے کہ وہ عورتوں کو اِن کاموں سے روکیں۔ عورت کی بے پردگی مرد کی بے غیرتی کی علامت ہے۔

بعض جگہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بیوی نیک ہے اور غیرتِ ایمانی سے محروم شوہر اسے بے پردگی پر مجبور کرتا ہے ایسے شخص کو رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیوث کہا اور فرمایا کہ دیوث پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ 'مشکوٰۃ'۔

:سیّدہ پاک رضی اللہ تعالٰی عنہا کی زندگی میں پردے کی اہمیت

حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا کو اِس بات کی فکر رہتی تھی کہ ساری زندگی تو میں نے اپنے پردے کی حفاظت کی لیکن وفات کے بعد جب جنازے کو پٹرے پر لے کر جایا جاتا ہے تو اُس وقت جسم جھلکتا ہے اور بے پردگی ہوتی ہے ۔ تو آپ اس بارے میں سخت فکر مند رہتی تھیں۔ ایک دن حضرت عصمہ بنتِ اُمیس سیّدہ پاک کے پاس بیٹھی تھیں 'یہ وہ خاتون ہیں جنھوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی تھی جب مسلمانوں پر حالات تنگ ہوگئے تو دو مرتبہ حبشہ کی جانب ہجرت ہوئ ہے اور تیسری ہجرت مدینہ منّورہ کی جانب کی گئی تھی' تو حبشہ کی جانب انھوں نے ہجرت کی تھی اور وہاں کچھ وقت گزارا تھا تو اُنھوں نے سیّدہ پاک سے کہا کہ وہاں میں نے ایک منظر دیکھا تھا کہ چارپائ کے چاروں پائے جو ہیں اُن کے ساتھ شاخیں باندھی جاتی  ہیں اور ان شاخوں کو آپس میں جوڑ دیا جاتا ہے اور اُس کے اُوپر کپڑا ڈال دیا جاتا ہے گویا ایک ڈولی بن جاتی ہے اور اُس میں عورت کا جنازہ ہوتا ہے۔ تو جب یہ بات آپ نے سُنی تو آپ کی خوشی کی انتہا نہ رہی کہا یہ تو بہت اچھا ہوا۔
اور پھر سیّدہ پاک کا جنازہ رات کی تنہائ میں پردے کے ایسے ماحول میں اُٹھتا ہے کہ اُس جیسی کوئ مثال نہیں۔ اور بہت تھوڑے لوگ جنازے میں شامل ہوتے ہیں۔

آپ کے پردے کا عالم یہ ہے کہ کل قیامت کے دن جب میدان حشر میں سیّدہ ستر ہزار حوروں کے جُھرمٹ میں تشریف لائیں گی اور جب گزریں گی تو آواز آئ گی "اے نبیوں،رسولوں،پیغمبروں اے صالحین نیکوکاروں،اے حشر کے میدان میں جمع ہونے والے لوگوں اپنی نظریں نیچی کرلو محمد کی صاحبزادی گزر رہی ہے"۔
قیامت کے دن بھی اللہ تعالٰی اُن کو یہ اعزاز دے گا۔ سیّدہ پاک کی زندگی ہماری خواتین کے لیے کامل،اکمل اور مکمل نمونہ ہے۔ اُن سے سیکھنا چاہئیے کہ اُنھوں نے اپنی ساری زندگی کیسی گزاری۔



:عورتوں کے باریک لباس کے نقصانات اور جدید سائنس

:ڈاکٹر بیٹر کی وارننگ

مذکورہ ڈاکٹر روحانیت کا بڑا محقق ہے۔ لیڈ بیٹر کے مطابق جس لباس سے نسوانی جسم کی جھلک نظر آئے اِس جسم سے میں نے غلیظ اور نسواری لہروں کو نکلتے ہوئے دیکھا ہے۔

:الیکٹرولائٹ ریز کے نقصانات

سورج میں موجود الیکٹرولائٹ ریز سخت گرمی میں جلد اور جسم کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔ اگر لباس موٹا ہو تو یہ شعائیں لباس سے باہر رک جاتی ہیں اگر لباس باریک ہو تو یہ شعائیں جلد کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔


:تنگ لباس کے نقصانات اور سائنسی تحقیق

تنگ لباس سے لوکل مسلز مُردہ اور کمزور ہو جاتے ہیں کیونکہ باہر کے مسلز میں جیسے حرکت ہوتی ہیں ایسے ہی اندرونی باریک مسلز ہوتے ہیں اور اِن میں بھی حرکت ہوتی ہے۔ جیسا کہ سوئ اگر جلد کے اندر چلی جائے تو وہ اِن باریک مسلز کی حرکت کی وجہ سے کہاں سے کہاں چلی جاتی ہے۔ جب تنگ لباس زیب تن کیا جاتا ہے تو اِن باریک مسلز کو بہت نقصان پہنچتا ہے ان کی حرکات رک جاتی ہے جس سے ذہنی دباؤ اعصابی تناؤ اور کھینچاؤ جیسے امراض پیدا ہو جاتے ۔ تنگ لباس سے جسم کا اُبھار نظر آتا ہے اور لوگوں کی نگاہیں اِس طرف مائل ہوتی ہیں۔



تنگ اور باریک لباس اسلامی اور سائنس دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالٰی کرے کہ ہماری خواتین کو پردے کی اہمیت سمجھ میں آجائے اور وہ ایسے لباس پہن کر فخر محسوس نہ کریں جو بے پردگی کی علامت ہو۔اللہ تعالٰی ہماری خواتین کو شرم و حیا کی چادر نصیب کرے کیونکہ حیا ایمان کی شاخ ہے۔

از تحریر : محمد شعیب احمد

اس تحریر کے لیے مختلف معلومات محمد شہزاد قادری ترابی کی کتاب "سنتِ مصطفٰی اور جدید سائنس" سے لی گئ ہے۔




















Comments

  1. سبحان اللہ آپ نے بڑا تحقیقی بلاگ تحریر کیا ہے۔

    ReplyDelete

Post a Comment