مسلمانوں کی ترقی میں پردہ نہیں درحقیقت بے پردگی رکاوٹ ہے۔ وہ خواتین لازمی پردہ کریں گی جن کا دل اچھا اور اللہ تعالٰی کی اطاعت کی طرف مائل ہوگا۔ مگر افسوس موجودہ دور میں فیشن ایبل وبے پردہ لڑکیاں اَفعال و اَقوال ہر لحاظ سے چادرِ حیا کو تار تار کر رہی ہیں۔ معاشرے کا بڑا حصہ حیا سے محروم ہے۔ ٹی وی پر فلمیں ڈراموں کے باعث بے پردگی عام ہوتی جارہی ہے اور حیا کا نامُ و نشان مٹتا جارہا ہے۔ فلموں ڈراموں میں بے پردگی کو دیکھ کر ہی آج کی خواتین میں سے پردے کا تصور ختم ہو گیا ہے۔ اکثر کنواری لڑکیاں شادیوں میں خوب ناچتی اور بے حیائ کے مظاہرے کرتی نظر آتی ہیں جو کے سراسر ناجائز و حرام ہے۔
اکبر الہ آبادی نے کیا خوب کہا ہے کہ۔
بے پردہ جو کل نظر آئیں چند بیبیاں
اکبر زمین میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا
پُوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا؟
کہنے لگیں کہ عقل پہ مُردوں کی پڑ گیا۔
اللہ تعالٰی مسلم خواتین کو پردے کی اہمیت کو سمجھنے اور باقاعدگی سے پردہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور بے پردگی اور بے حیائ کے کاموں سے بچائے۔
از تحریر: شعیب احمد
اس تحریر کے لیے معلومات کتاب [خواتین اور دینی مسائل] سے لی گئ ہے۔
سبحان اللہ۔
ReplyDeleteسبحان الله
ReplyDeleteMasha Allah
ReplyDelete