خواتین کے لیے پردے کی اہمیت

خواتین کے لیے پردے کی اہمیت


خواتین کے لیے پردے کی اہمیت

یہ ایک ایسا دور ہے جس میں پردے کا تصور ہی ختم ہو گیا ہے۔ مرد اور عورت کی آپسی بے تکلفی اور بد نگاہی کو عیب ہی نہیں سمجھا جاتا۔ایسے حالات میں ایک اسلامی پردہ دار بہن سمجھ سکتی ہے  کہ اس نے کتنی محتاط زندگی گزارنی ہے۔
اس دور میں حالات دن بدن بگڑتے جارہے ہیں افسوس یہ ہے کے ہماری خواتین میں شرعی پردہ تو دور پردے تک کا تصور ختم ہو چکا ہے۔حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ اِس دور میں اگر ایک عورت کو ہزار پردوں میں چھپا دیا جائے جب بھی کم ہے۔

:چہرے کے پردے کی شرعی حیثیت

بعض خواتین کہتی ہیں کہ چہرے کا پردہ کرنے کا قرآن اور حدیث میں کہی ذکر نہیں ہے۔ پردہ تو صرف دل کا ہوتا ہے۔ دراصل ایسی خواتین دین سے لاعلمی کا شکار ہوتی ہیں۔ کیونکہ پردہ کا حکم قرآن اور حدیث سے ثابت ہے اور جو اِس کا انکار کرے اُس کا ایمان خطرے میں ہے۔



:ارشادِ باری تعالٰی

قرآن پاک میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا، "اے غیب بتانے والے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کے اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ انکی پہچان ہو تو ستائ نہ جائیں"۔ [سورۃ الاحزاب ۵۹ کنزالایمان]۔
علامہ ابو بکر جصاص رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ جوان عورتوں کو نامحرموں سے چہرہ چھپانے کا حکم ہے۔


:شرعی ضرورت

مسلمان عورتیں جب کسی شرعی ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلیں تو انکا سارا جسم کسی بڑی چادر یا برقعہ سے ڈھکا ہونا چاھئیے چہرہ بھی حجاب مِیں چُھپا ہو۔ صرف آنکھیں کھلی رکھنے کی اجازت ہے۔
جیسا کہ اِبن سیرین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عبیدۃ السلمانی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جو [فقیہ تابعی تھے] روایت کیا ہے کہ علامہ اِبن حیان فرماتے ہیں کہ اندلس میں مسلمان عورتیں اسطرح پردہ کرتی ہیں کہ اِن کا سارہ چہرہ چُھپا ہوتا ہے صرف ایک آنکھ کُھلی ہوتی ہے۔


:نامحرم رشتہ داروں سے پردہ

 خالہ زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد، چچا زاد، تایا زاد، دیوروجیٹھ، خالو، پھوپھا، بہنوئ یہ سب نامحرم ہیں اور اسلام میں عورت کو اِن سے پردے کا حکم ہے۔ یہاں تک کے اپنے نامحرم پیرومرشد سے بھی پردہ کرنا چاھئیے۔ منہ بولے بھائ بہن، منہ بولے ماں بیٹے اور منہ بولے باپ بیٹی میں بھی پردہ ہے۔ اگر ایک گھر میں رہتے ہوئے عورت کے لیے قریبی نامحرم رشتہ داروں سے پردہ دشوار ہو تو چہرہ کھولنے کی اجازت ہے۔ مگر کپڑے ہرگز ایسے باریک نہ ہوں جن سے بدن یا سر کے بال وغیرہ چمکیں یا ایسے چُست نہ ہوں کہ بدن کے اعضاء ظاہر ہو۔ چراغاں دیکھنے کے لیے بھی عورتوں کا بے پردہ نکلنا حرام ہے۔

آج کی خواتین

مسلمانوں کی ترقی میں پردہ نہیں درحقیقت بے پردگی رکاوٹ ہے۔ وہ خواتین لازمی پردہ کریں گی جن کا دل اچھا اور اللہ تعالٰی کی اطاعت کی طرف مائل ہوگا۔ مگر افسوس موجودہ دور میں فیشن ایبل وبے پردہ لڑکیاں اَفعال و اَقوال ہر لحاظ سے چادرِ حیا کو تار تار کر رہی ہیں۔ معاشرے کا بڑا حصہ حیا سے محروم ہے۔ ٹی وی پر فلمیں ڈراموں کے باعث بے پردگی عام ہوتی جارہی ہے اور حیا کا نامُ و نشان مٹتا جارہا ہے۔ فلموں ڈراموں میں بے پردگی کو دیکھ کر ہی آج کی خواتین میں سے پردے کا تصور ختم ہو گیا ہے۔ اکثر کنواری لڑکیاں شادیوں میں خوب ناچتی اور بے حیائ کے مظاہرے کرتی نظر آتی ہیں جو کے سراسر ناجائز و حرام ہے۔

اکبر الہ آبادی نے کیا خوب  کہا ہے کہ۔

بے پردہ جو کل نظر آئیں چند بیبیاں
اکبر زمین میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا

پُوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا؟
کہنے لگیں کہ عقل پہ مُردوں کی پڑ گیا۔

اللہ تعالٰی مسلم خواتین کو پردے کی اہمیت کو سمجھنے اور باقاعدگی سے پردہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور بے پردگی اور بے حیائ کے کاموں سے بچائے۔

از تحریر: شعیب احمد
اس تحریر کے لیے معلومات کتاب [خواتین اور دینی مسائل] سے لی گئ ہے۔




Comments

Post a Comment