افضل البشر بعد از انبیاء

افضل الصحابہ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ



جمادی الثانی:

جمادی الثانی وہ عظیم مہینہ ہے جس میں دنیا بھر کے مسلمان خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ 
تعالٰی عنہ کی ذاتِ مسعود کو خراجِ تحسین پیش کرتےہیں اور اِس ماہِ مبارک میں اُن کی شان بیان کی جاتی ہے مگر وہیں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنی گندی زبانیں استعمال کر کے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شانِ اقدس کو معاذاللہ کم کرنے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں اور وہ  لوگ جن کو دین کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی وہ اِن کا شکار بنتے ہیں اور اِن کی باتوں میں آکر اپنی دنیا اور آخرت دونوں تباہ و برباد کر لیتے ہیں۔
 کچھ لوگ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو  حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے افضل کہہ رہے ہوتے ہیں اور سمجھانے کے باوجود بھی اُن کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔ جب کہ خود حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو افضل الصحابہ قرار دیا ہے اور کئ دفعہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیقِ اکبر کی شان بیان فرمائ ہے۔

اہلسنت و جماعت کا عقیدہ:

امام جلال الدین سیوطی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب تاریخ الخلفاء میں ایک بڑی شاندار بات تحریر فرمائ۔ آپ فرماتے ہیں کہ اہلسنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام لوگوں میں سب سے افضل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ پھر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں اِس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ پھر مولا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں پھر عشرہ مبشرہ ہیں پھر حضور کا سارا قبیلہ ہے پھر باقی اہلِ بدر پھر باقی بیعتِ رضوان والے پھر باقی صحابہ کرام ہیں۔ اہلسنت و جماعت کا شروع سے یہ عقیدہ ہے اور قیامت تک انشاءاللہ رہے گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تما م لوگوں میں سب سے افضل شخصیت صدیقِ اکبر کی ہے۔

جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی:

اوسط میں سعد بن زرارہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبرائیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی ہے کہ آپ کہ بعد آپ کی اُمت میں سب سے بہتر حضرت ابو 
بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔


حدیث مبارکہ:

آپ کی شانِ اقدس کے حوالے سے چند احادیثِ مبارکہ:

۱: عبد الرحمٰن بن حمید نے اپنی مسند میں اور ابو نعیم وغیرہ نے ابو درداء سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " انبیاء کے بعد آفتاب کسی ایسے شخص پر طلوع نہیں ہوا جو ابو بکر صدیق سے افضل ہو۔
ایک روایت میں اِس طرح ہے کہ انبیاء اور مرسلین کے بعد کسی مسلمان پر آفتاب طلوع نہیں ہوا جو حضرت ابو بکر صدیق سے افضل ہو"۔

۲: اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے ابوبکر اللہ اور مومنین آپ کی ذات پر اختلاف نہیں کریں گے"
'طبقات الکبرٰی جلد ۳،حدیث ۱۸۰'

۳: حضرت سلمہ بن اکوع سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ابو بکر میرے بعد سوائے انبیاء کے تمام لوگوں میں بہتر ہیں"
'کشف الخفاء، حدیث ۵۱'

۴: اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ابو بکر مجھ سے ہیں اور میں ابو بکر سے،اور ابو بکر دنیا اور آخرت میں میرے بھائ ہیں۔
'الفردوس بماثور الخطاب،حدیث ۱۷۸۰'

۵: حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ابو بکر میرے ساتھی اور میرے یارِ غار ہیں،ان کے اعلٰی مرتبے کو جان لو پس اگر میں اللہ کے سوا کسی کو دوست بناتا تو ابو بکر کو بناتا"
'فضائل الصحابہ، حدیث ۶۰۳'


فرمانِ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی  عنہ:

ابنِ عساکر عبدالرحمٰن بن ابو یعلٰی  سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر ایک دفعہ منبر پر
 چڑھے اور فرمایا۔
آگاہ ہو جاؤ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اِس اُمت میں سب سے افضل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعاٰلی عنہ ہیں۔ جو ان کے خلاف کہے گا وہ کذاب ہے اور اسے کذاب کی سزا ملے گی۔

مثالِ عجز:

بخاری محمد بن علی بن طالب سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ میں نے عرض کیا پھر کون ہیں؟ آپ نے فرمایا حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ پھر میں نے اِس خوف سے کہا کہ مبادا آپ اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نام لیں۔ کہا کہ پھر آپ۔ آپ نےفرمایا کہ میں تو مسلمانوں میں سے ایک معمولی شخص ہوں۔
حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس اُمت میں سب سے بہتر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔

فرمانِ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ:


ابنِ عساکر نے ابنِ ابو یعلٰی سے روایت کی ہے کہ حضرت علی
رضی اللہ تعاٰلی عنہ نے فرمایا کہ جو شخص مجھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعاٰلی عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعاٰلی عنہ پر فضیلت دے گا میں اسے کذاب کی حد لگا ؤں گا۔

ہمارا پیغام:

جو لوگ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ  کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ  سے افضل کہہ رہے ہوتے ہیں اُن کو ہمارا یہ پیغام ہے کہ وہ پہلے صحیح سے مطالعہ کریں۔ اور پھر سوچھ سمجھ کر بات کریں کہ ہم بول کیا رہے ہیں کیونکہ جب حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خود حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حضور کے بعد تمام لوگوں میں سب سے بہتر قرار دے دیا اور خود جب ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرما دی تو یہ  لوگ کونسی دلیلیں اور فرمان لوگوں کو دکھا رہے ہوتے ہیں؟  اس بات پربحث کر کے انھیں کچھ حاصل نہیں البتہ ایسے لوگوں کے ایمان کو ضرور خطرہ ہے۔

تحریر از: محمد شعیب احمد

اس تحریر کے لیے مختلف معلومات امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب "تاریخ الخلفاء" سے لی گئ ہے۔

Comments

  1. سبحان اللہ بہت مدلل تحریر لکھی آپ نے۔۔۔

    ReplyDelete

Post a Comment