Skip to main content
کرامتِ خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ
مریم کالج سے گھر آئ اور گھر والوں کو سلام کیا۔ مریم کے گھر آج خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کے عُرس کی محفل تھی اور سارے مہمانوں نے گھر پر آنا تھا۔ مریم کی والدہ آج ہونے والی تقریب کے حوالے سے مصروف تھیں اُنھوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر سے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئیں۔ مریم بھی اپنی والدہ کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹانے لگی۔ کام سے فارغ ہونے کے بعد مریم نے اپنی والدہ کو بتایا کہ آج کالج میں مِس نحرش نے خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کا تعارف اور اُن کی زندگی کے حوالے سے معلومات فراہم کی اور ہماری جماعت میں سے تین طالبات کو کل خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی کوئ کرامت کلاس میں بیان کرنے کو کہا ہے۔ مریم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ امی جان اُن تین طالبات میں میرا نام بھی شامل ہے۔ آپ مجھے خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی سے متعلق کوئ ایسا واقعہ سنائیں جس میں اُن کی کرامت ظاہر ہو تاکہ کل میں کلاس میں وہ واقعہ سنا سکوں۔
امی جان نے مریم سے کہا: بیٹا خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی سے متعلق کئ ایسے واقعات موجود ہیں جن میں آپ کی کرامت کا ظہور ہوا ہے اور اِن واقعات سے آپ کے شان و مرتبے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آپ یہ بات اپنی دادی جان کو بتاؤ، دادی جان آپ کو اس حوالے سے بہتر معلومات فراہم کریں گی۔ یہ بات سُن کر مریم فوراً اُٹھی اور دادی جان کے کمرے کی طرف گئ۔ دادی جان کے کمرے کے دروازے پر اُس نے دستک دی اندر سے دادی جان کی آواز آئ اندر آجاؤ۔ مریم دروازے سے اندر داخل ہوئ اور دادی جان کو سلام کیا۔ دادی جان نے سلام کا جواب دیا۔ مریم نے اپنے کالج کی پوری بات دادی کے گوش گزار کردی۔ دادی نے مریم کی بات سُننے کے بعد کہا کہ چلیں ہم آپ کو آج خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی سے متعلق ایک ایسا واقعہ سناتے ہیں جس میں آپ کی کرامت واضح طور پر ظاہر ہے۔اور کل جب آپ اپنی جماعت میں اپنی دوستوں اور ٹیچرز کے سامنے یہ واقعہ بیان کریں گی تو یقیناً اُن کو خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی شان کا اندازہ ہوگا۔ دادی جان نے بات کا آغاز کیا۔

خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کا پورا نام معین الدین حسن تھا آپ نے علم کی تلاش میں طویل سفر طے کئے اور حضرت خواجہ عثمان ہارونی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ایک رات خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ آرام فرما رہے تھے کہ خواب میں آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کو ہندوستان جانے کی ہدایت نصیب فرمائ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر آپ ہندوستان تشریف لے گئے اور مختلف جگہوں پر کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد آپ اجمیر کی طرف چلے گئے اور اِس کو اپنی تبلیغ کا مرکز بنایا۔ اُس زمانے میں پرتھوی راج چوہان نام کا حکمران دہلی اور اجمیر پر حکومت کیا کرتا تھا۔ اجمیر کے ایک قریبی علاقے میں خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی جھونپڑی بنائ اور اُس میں رہنے لگے۔
شروع میں تو لوگوں نے کوئ توجہ نہیں دی سب یہی سمجھے کہ کوئ سادھو آگیا ہے اور یہاں پر رہ رہا ہے۔ مگر چند دنوں میں یہ راز فاش ہوگیا کہ یہ سادھو نہیں ہے اس کا طریقہ عبادت، رہن سہن، بات چیت ہر انداز سے ایک وقار جھلک رہا ہے۔
خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کے نورانی چہرے میں اتنی کشش تھی کہ کوئ بھی ہندو کچھ نام ہی نہیں دے رہے تھے۔ اور پھر ایک دن عجیب واقعہ ہوا۔ دادی جان نے کہا۔
واقعہ۔۔۔؟
کیسا واقعہ؟ دادی جان۔

پرتھوی راج کے اُونٹ اور کرامتِ خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ
کیا واقعہ ہوا؟ دادی جان مریم نے حیرت سے پوچھا۔
خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ اُس دن ایک وسیع و عریض میدان میں ایک درخت کے نیچے آرام فرما رہے تھے کہ اچانک ساربانوں کی نظر آپ پر پڑی۔
دادی جان یہ ساربان کون ہوتے ہیں؟ مریم نے سوال کیا۔
بیٹا ساربان سے مراد وہ لوگ جو اُونٹوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کے رکھوالے ہوتے ہیں دادی نے جواب دیا۔
تو میں کیا بتا رہی تھی؟
مریم نے کہا دادی جان آپ بتا رہی تھی کہ ساربانوں کی اچانک نظر پڑی۔ مریم نے یاد دلایا۔ دادی نے گفتگو وہی سے دوبارہ شروع کری۔
ساربانوں کی اچانک نظر آپ پر پڑی اور آپ کے بارے میں تو پہلے ہی یہ مشہور ہو چکا تھا کہ آپ کا تعلق مسلمان قوم سے ہے۔ ساربان آپ کے قریب آئے اور تلخ لہجے میں کہنے لگے:۔
اے شخص تو کون ہے؟ اور یہاں کس لیے آیا ہے؟
میں اللہ کا ایک بندہ ہوں اور اس پیڑ کے سائے میں کچھ دیر آرام کے لیے ٹھہر گیا ہوں آپ نے اُن کے تلخ لہجے کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
یہ راجا پرتھوی کے اُونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے کوئ اور یہاں نہیں بیٹھ سکتا۔
ساربانوں نے اُسی تلخی سے کہا۔
یہ تو بہت بڑا میدان ہے راجا کے اُونٹ بھی اس میں بیٹھ سکتے ہیں اور میں بھی اس میدان کے کسی کونے میں بیٹھ جاؤں گا۔ خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کے لب و لہجے میں اسلام کی روایتی مٹھاس تھی۔ مگر دوسری جانب وہ لوگ تھے جو علم و شعور سے بیگانے تھے وہ ساربان اب گستاخی اور بے ادبی پر آگئے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنا مختصر سامان لے کر وہاں سے دوسری جگہ تشریف لے گئے اور آخر میں بس اتنا فرمایا: "یہاں اب راجا پرتھوی کے اُونٹ ہی بیٹھیں گے اور اُنہیں کوئ اُٹھا نہ سکے گا"۔
یہ سُن کر وہ جاہل ساربان ہنسنے لگے، قہقہے لگانے لگے۔ اُن کی ان حرکتوں سے بے نیاز آپ اناساگر کی طرف چلے گئے۔
حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کے چلے جانے کے بعد شام میں پرتھوی راج کے اُونٹ گھاس چرتے ہوئے میدان میں داخل ہوئے اور رات گزارنے کے لیے اُونٹ زمین پر بیٹھ گئے۔
دوسرے دن حسبِ معمول ساربان آئے اور اُونٹوں کو اُٹھانے لگے لیکن اُونٹوں نے اُٹھنا تو دور ہلنے سے بھی منع کردیا۔ ساربان بہت پریشان ہوئے کہ یہ ماجرا کیا ہے؟ ایک بھی اُونٹ اپنی جگہ سے نہیں اُٹھ رہا ہے۔
ساربانوں نے اُونٹوں کو بہت مارا کہ یہ اُونٹ اُٹھ جائیں مگر اُونٹ نہیں اُٹھے بعض اُونٹ تو لہو لہان ہو گئے لیکن زمین سے نہ اُٹھ سکے۔
جب ساربانوں نے سارے طریقے آزما لیے تو انہیں خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کے الفاظ یاد آئے اب تو ساربانوں کے ہوش ہی اُڑ گئے۔ وہ سب دوڑے دوڑے پرتھوی راج کے پاس آئے اور ساری صورتِ حال سے پرتھوی راج کو آگاہ کیا۔
پرتھوی راج نے کہا کہ تم اُس فقیر کو ڈھونڈو اور اُس سے معافی مانگو یقیناً تم لوگوں نے اُس کے ساتھ کوئ زیادتی کی ہوگی۔ اُسی کی دعا سے اب اُونٹ اُٹھیں گے۔
پرتھوی راج کا حکم سُن کر سارے ساربان خواجہ غریب نواز کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ کچھ دیر کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ آپ اناساگر کے کنارے ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں۔
ساربانوں نے قریب جا کر معافی مانگی۔ آپ نے فرمایا: "اچھا جاؤ زمین تمہارے اُونٹوں کو چھوڑ دے گی" جب ساربان واپس میدان میں آئے تو دیکھا اُونٹ ادھر اُدھر ٹہل رہے ہیں۔
جب ساربانوں نے اِس واقعے کا ذکر اپنے دیگر ہم مذہبوں سے کیا تو سب لوگ حیران رہ گئے۔ کیونکہ اجمیر میں جادوگری کا بڑا چرچہ تھا تو وہ سب سمجھے کہ کوئ بڑا جادوگر اجمیر آگیا ہے۔ لوگوں نے جب یہ قصہ سنا تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد حضرت خواجہ غریب نواز کو دیکھنے کے لیے نکل پڑی۔ اب وہاں تو کوئ جادوگری تھی ہی نہیں بس ایک خوبصورت سی مسکراہٹ تھی جس نے ہر طرف خوشبو بکھیر دی۔ حُسن اخلاق کے موتیوں نے لوگوں کو آپ کا گرویدہ بنادیا۔ تھوڑی سی گفتگو میں اُن لوگوں کے دل موم ہو گئے اور اُنھوں نے اگلے ہی لمحے جھوٹے خداؤں کو چھوڑ کر ایک خدا کی بندگی کا اعلان کردیا۔ اور وہ سب اسلام کی دولت سے مالا مال ہو گئے۔
دادی جان آپ نے واقعی بہت اچھی معلومات فراہم کی۔ مریم نے دادی جان سے کہا اور دادی کا شکریہ ادا کیا۔
اگلے دن کالج میں جب مریم کی باری آئی اور اُس نے اپنا واقعہ مِس نحرش اور تمام طالبات کے سامنے پیش کیا تو تمام نے بڑی دلچسپی سے اُس واقعے کو سُنا اور مریم کی تعریف کی کہ واقعی بہت اچھا واقعہ بیان کیا آپ نے۔ اور جیسا کے دادی جان نے کہا تھا کہ اِس واقعے سی اُن کو خواجہ غریب نواز کی شان کا اندازہ ہوگا بلکل ایسا ہی ہوا۔
تحریر از : محمد شعیب احمد
سبحان اللہ کیا بات ہے۔
ReplyDeleteماشاءاللہ بہت ذبردست بلاگ ہے پڑھ کے ایمان تازہ ہںو گیا۔
ReplyDelete